Pay in installments of $50.00 with
,
and
Shipping Estimate
USA
- USA
- CAN
- USA
- CAN
Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 12 - Aug 17
For Your Every Summer RSVP, with Code: SUMMER15
Description
دریائے آمو کے کنارے | عصمت درانی" " _____ " " " " " " " " " ( ) " " 2400 (Aral Sea) ( ) " " " " " " " " " _ # _
لیاقت پور ادبی فورم کے جنرل سیکرٹری طارق ملک کا روز نامہ جنگ ملتان میں شائع ہونے والا آرٹیکل " دریائے آمو کے کنارے" احباب کی نذر _____
"خوشبو لٹاتی پھولوں سے سجی روشیں خوبصورت منظر پیش کر رہی تھیں۔دلکشی میں مزید اضافے کا سبب شفاف پانیوں سے لبالب بھرے حوض اور رنگین روشنیاں بکھیرتے پانی کی دھاریں اچھالتے حسین سنگی فوارے تھے۔ بچے اور کمسن لڑکیاں،بالے بھاگتےدوڑتے، سائیکل چلاتے،پاپ کارن ٹونگتے، برگر کھاتے اور کون چاٹتے زندگی کی انمول خوشیاں کشید کر رہے تھے" یہ چند سطور ڈاکٹر عصمت درانی کے سفر نامہ " دریائے آمو کے کنارے" کی ہیں جو انہوں نے "وسطی ایشیا سائنس، ثقافت اور تجارت میں اطلاعات اور کتب خانہ جاتی مآخذ " کے عنوان سے ازبکستان میں منعقدہ ایک بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کے دوران ازبکستان میں اپنے چودہ روزہ قیام کے دنوں میں سفر و حضر کے مشاہدات اور حالات و واقعات کو قرطاس ابیض پر اتار کر " دریائے آمو کے کنارے " کے عنوان سے ایک سفر نامہ شائع کیا ہے جو کہ ادب کی دنیا میں نہایت خوبصورت اضافے کا باعث ہے ڈاکٹر عصمت درانی کا نام علم و ادب کی دنیا میں کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے وہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں نہ صرف فارسی کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں بلکہ شعبہء فارسی کی چیئرپرسن بھی ہیں قبل ازیں وہ اپنی دو تصانیف " تذکرہ شیخ دولا گجراتی(فارسی سے اردو ترجمہ) اور " نوابان بہاولپور کے کتب خانوں کی تاریخ " ادب کو دان کر چکی ہیں جبکہ کتب خانہ سلطانی کے علاوہ ان کے متعدد تحقیقی مقالہ جات اور ادب و ثقافت پر مبنی کئی مضامین مختلف قومی اخبارات کے علاوہ قومی و بین الاقوامی رسائل و جرائد میں بھی شائع ہو چکے ہیں دریائے آمو کے کنارے ان کا ایک تازہ سفر نامہ ہے جسے دنیائے ادب میں خوب سراہا جا رہا ہے
دریائے آمو وسط ایشیا کا سب سے بڑا دریا ہے جو پامیر کے پہاڑوں سے نکل کر افغانستان، تاجکستان، ترکمنستان اور ازبکستان کی قریباً 2400 کلومیٹر مسافت طے کرتے ہوئےبحیرہ ارال(Aral Sea) میں جا گرتا ہے(بحیرہ ارال دراصل دنیا کی چوتھی بڑی جھیل ہے جس کے چاروں طرف زمین ہے تاہم اس جھیل کے وسیع حجم کے باعث اسے بحیرہ ارال کا نام دیا گیا ہے جبکہ تاریخ کی کتابوں میں اس جھیل کو خوارزم کے نام سے بھی جانا جاتا ہے) یہ وہی دریائے آمو ہے جس کے متعلق پروفیسر عصمت درانی اپنے سفرنامے میں لکھتی ہیں کہ " وخش اور آمو آریائی قوموں کے لیے مقدس دریا رہے ہیں جنہیں خوارزم کے لوگ سجدہ کرتے تھے کیونکہ یہ دریا زمینوں کو شاداب بناتے تھے لوگوں کو رزق اور جانوروں کو گھاس اور چارے سے نوازتے تھے مزید لکھتی ہیں کہ " سکندر اعظم نے اپنے حملوں کے دوران مختلف ممالک سے بطورِ مال غنیمت جو خزانہ حاصل کیا تھا وہ دریائے آمو کے ساحلوں پر اتفاقاً کھو گیا تھا اور بعض روایات کے مطابق پانی میں بہہ گیا تھا اسی خزانے کا بازیاب شدہ کچھ حصہ بعد ازیں کئی ہاتھوں سے ہو کر اور ہزاروں میل کا فاصلہ طے کر کے بالآخر برطانیہ کے میوزیم کی مضبوط پناہ گاہوں میں جا پہنچا"
سفر نامے کا نام اگرچہ "دریائے آمو کے کنارے" رکھا گیا ہے مگر اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہے کہ دریائے آمو ہی اس سفر نامے کا خاص موضوع ہے بلکہ سفر نامے میں ازبکستان کے تاریخی پسِ منظر، خوبصورتی،روحانیت، علم و ادب اور تہذیبی خدوخال پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے خصوصاً تاشقند، ترمذ، سمرقند اور بخارا میں مقیم لوگوں کے رہن سہن، بول چال، رسم و رواج، شادی بیاہ اور مہمان نوازی کا بھی خوب تذکرہ کیا گیا ہے مصنفہ لکھتی ہیں کہ " تاجکوں کی رسم ہے کہ کسی کے ہاں جب بھی کوئی مہمان آئے اور کھانے کی میز پر بیٹھے تو میزبان دعا مانگتا ہے اور اللہ کا شکر ادا کرتا ہے کہ اس کے گھر مہمان آیا ہے اور خدا کی رحمت نازل ہوئی ہے"
سفر نامے میں ازبکستان کے دو درجن سے زائد مزارات کا بھی ذکر کیا گیا ہے جو اپنی خوبصورتی کے لحاظ سے پر شکوہ اور فن تعمیر کا شہکار بتائے گئے ہیں یہ مزارات تاشقند،ترمذ، سمرقند اور بخارا میں ہر خاص و عام کے لیے مرجع خلائق ہیں خصوصاً حضرت ابو عبداللہ محمد بن اسماعیل بخاری المعروف حضرت امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کا مزار ان کی گراں مایہ شخصیت اور ان کے نام سے منسوب قلعہ بخارا اور حضرت امام بخاری تحقیقاتی مرکز و میوزیم کی اہمیت و افادیت پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ " میوزیم میں وہ قرآن مجید بھی موجود ہے جو حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ اپنی شہادت کے وقت تلاوت کر ریے تھے اور اس پر خون کے دھبے بھی موجود ہیں جو ان کی شہادت کے وقت پڑے تھے کہا جاتا ہے کہ یہ قرآن مجید امیر تیمور سمرقند لائے تھے تاہم سوویت یونین کے دور میں اس قرآن مجید کو ماسکو منتقل کر دیا گیا تھا بعد ازاں لینن نے اسے واپس تاشقند بھجوا دیا تھا" جبکہ قلعہ بخارا جو روایات کے مطابق سیاوش ابن کیکاوس نے پانچویں صدی عیسوی میں تعمیر کرایا تھا کی تاریخی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ قلعہ کی فصیل چولستان کے قلعہ ڈیراور سی دکھائی دیتی ہے قلعہ بخارا دفاعی ضروریات کے علاوہ بخارا کے حکمرانوں اور سرکاری عہدیداران کے لیے بھی استعمال ہوتا رہا ہے قلعہ بخارا متعدد مرتبہ نہ صرف شکست و ریخت کا شکار رہا بلکہ کئی مرتبہ حملہ آوروں کے ہاتھوں تباہ بھی ہوا ہے اب قلعہ کا بیشتر حصہ میوزیم کی شکل اختیار کر چکا ہے جس کے ایک حصے میں امرائے بخارا کے ملبوسات ،دستاریں، تلواریں، تمغے،تکمے اور روز مرہ استعمال کی چیزیں رکھی گئی ہیں جبکہ دوسرے حصے میں حنوط شدہ درندوں، پرندوں، جانوروں اور حشرات الارض کے لاشے کیمیائی محلول سے محفوظ کیے گئے ہیں سفر نامے کی خاص بات یہ ہے کہ یہ قاری کو اپنے حصار میں لے لیتا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ خود ازبکستان میں موجود ہے اور تمام مناظر اس کی آنکھوں کے سامنے رونما ہو رہے ہیں جبکہ طنز و مزاح کے خوبصورت امتزاج نے سفر نامہ کو چار چاند لگا دیے ہیں
سفر نامہ میں ازبکستان کے تاریخی مقامات، عمارات،مزارات،بازاروں اور سیاحوں کی خوبصورت اور دیدہ زیب تصویریں بھی شامل کی گئی ہیں علاوہ ازیں حافظ شیرازی، خواجہ غلام فرید،معین الدین فضل اللہ،دستگیر پنجتیری،فردوسی، مجید امجد، لائق شیر علی، سلیم کوثر اور ن م _ راشد کے اردو، فارسی و سرائیکی شعروں کے برمحل استعمال سے سفر نامے کی خوبصورتی میں مزید اضافہ ہوا ہے المختصر دریائے آمو کے کنارے ایک ایسا سفر نامہ ہے جو قاری پر علم و آگہی کے نئے در وا کرتا ہے جس سے وہ اپنے دامنِ طلب میں بہت کچھ سمیٹ سکتا ہے۔#
طارق ملک
اللہ آباد _تحصیل لیاقت پور
ضلع رحیم یار خان
Shipping Notes
- Free Standard Shipping on $100+ Orders to the USA.
- Except Preorder products are shipped in 48 hours.
- Delivery to the USA:
- Standard Shipping : 3-10 business days
- If time is of the essence, please consider selecting expedited delivery for faster service.
Exchange/Return Notes
- We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
- Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
- To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
- Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy
4.3 ★★★★★
Based on 18 reviews
Sort
Product Reviews
★★★★★ 5
Excellent can opener.
Color: Red/Battery
Love it! Works like a charm. I have arthritis which made opening cans with the type I’d used for years very hard. I didn’t want one on the counter, this fits perfectly in a drawer. I know a couple our friends have ordered one.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on March 31, 2026
★★★★★ 2
Stopped working
Color: Red/Battery
It worked good at first but after a while it stopped working.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on May 19, 2026
★★★★★ 5
Worth the Money
Color: Red/Battery
I bought this thinking, "Will it really work the way it shows?". The answer is yes. Put it on the can, press the button, and then it does its thing hands off. It does leave a smooth edge too. Not too speedy, but better than having to fight with your manual to get it to catch the edge.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on June 29, 2025
★★★★★ 5
Great upgrade compared to others
Color: Rechargeable with Storage Stand and Box - Black
This frother is far superior to other hand held versions we’ve owned. The attachments are much sturdier and don’t bend as easily (which made the others we’ve purchased quite useless). Rechargeable battery seems to last longer and provides plenty of power even on the lowest setting. The little wisk easily whips up eggs for a morning omelette and frothing cream and mixing powder into drinks are super easy with the other attachments. Finally, the stand is actually sturdy and balanced enough that it doesn’t easily tip over.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on May 4, 2026
★★★★★ 5
Three froth/blend options, rechargeable, comes with container
Color: Rechargeable with Storage Box - Silver, Color: Rechargeable with Storage Box - Silver
I watch a gentleman online who always talks about how in his 40 years he didn’t know x, y, z, and ends with “ain’t no way.” He made this 3-ingredient — 4 with ice— iced coffee, and used a handheld frother, so after shopping for ingredients, I went in search of a frother. What I liked about this one is that it’s not battery operated, but instead is rechargeable. It comes with three attachment, one of which I can use for cake batter, whipping up eggs, making homemade whipped cream, and also sauces and gravy. It also has a case so I am storing it with my coffee paraphernalia. It has three settings and I used the high setting. As you can see it really froths up the ingredients. I’m very pleased with my purchase and thought about all the times I need a slurry of water and cornstarch to thicken soups and stews. I don’t know the charge life yet, but so far, so good. What you see in the cup is 2 tablespoons of sweetened condensed milk, 3 teaspoons of instant espresso, and 2 ounces of water. Then you add the ice and your creamer, half-and-half, or barista lover’s oat milk, and you’re done. Not too bad, as my grandpa used to say.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on May 9, 2026