Pay in installments of $100.00 with
,
and
Shipping Estimate
USA
- USA
- CAN
- USA
- CAN
Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 13 - Aug 18
For Your Every Summer RSVP, with Code: SUMMER15
Description
تاریخ ساز لوگ | Tarikh Saz Log | Nazir Laghari() : 456 ( ) : 43 41 1986 1987 1990 2005 45 12 2 32 () () 1959 1964 1965 ( ) 1965 1965 **
تاریخ ساز لوگ (انٹرویوز)
مصنف | نذیر لغاری
صفحات: 456 ( بڑا سائز)
’تاریخ ساز لوگ‘
ریویو: لیاقت علی ایڈووکیٹ
نذیر لغاری گذشتہ چار دہائیوں سے شعبہ صحافت سے منسلک ہیں۔’ تاریخ ساز لوگ‘ ان انٹرویوز پر مشتمل ہے جو انھوں نے تیس سال قبل سیاست دانوں اور ماہرین قانون سے لئے تھے اور یہ سب ماہنانہ ’اخبار جہاں‘ میں چھپے تھے۔اس کتاب میں دو سیاست دانوں ذوالفقار علی بھٹو اور بیگم نصرت بھٹو کے بارے میں ان کے دو تاثراتی مضامین شامل ہیں جو ان دونوں سے نذیر لغاری کی ملاقاتوں اور گفتگو پر مشتمل ہیں جب کہ 43 سیاست دانوں سے انھوں نے براہ راست انٹرویوز لیے تھے۔ خان عبدالولی خان سے شاہ محمد امروٹی تک 41 انٹرویوز 1986 اور1987کے درمیان لئے گئے تھے جب کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کا دوسرا انٹرویو 1990اورمیاں محمد نواز شریف کا انٹرویو 2005 میں لیا گیا تھا۔جن 45سیاست دانوں کے انٹر ویوز اس مجموعہ میں شامل ہیں ان میں سے12سیاست دان اور 2 ماہرین قانون بقید حیات ہیں جب کہ 32شخصیات اس دنیا سے رخصت ہوچکی ہیں۔’ تاریخ ساز لوگ ‘میں شامل دو کے سوا باقی تمام انٹر ویو ز جنرل ضیاء الحق کے عہد ستم میں لئے گئے اور اسی دور میں شایع ہوئے تھے۔
نذیر لغاری بھٹو سے متاثر ہیں اور سمجھتے ہیں کہ’ پاکستان کی سیاست میں عوام کا ڈکشن ذوالفقار علی بھٹو نے رائج کیا تھا ۔ اُن کی گفتگو میں دریائے سندھ کا بہاو تھا‘۔ وہ بھٹو کی شخصیت اور طرز سیاست کے مداح ہیں ۔محمد حنیف رامے پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت میں پنجاب کے وزیر اعلی تھے۔ و ہ پنجاب اسمبلی کے سپیکر بھی رہے۔جب بھٹو حکومت کا ہر طرف طوطی بول رہا تھا عین اس وقت حنیف رامے پیپلز پارٹی سے علیحدہ ہوکر پیر پگاڑا کی مسلم لیگ میں شامل ہوگئے تھے۔ انھوں نے مساوات پارٹی بھی بنائی تھی۔ پنجاب کی تاریخ کے حوالے سے انھوں نے ’پنجاب کا مقدمہ ‘ کے نام سے ایک کتاب بھی لکھی تھی۔ اپنے انٹرویو میں کہتے ہیں کہ ’ میں مارکسسٹ نہیں ہوں،میں نے دوسرے معاشرتی علوم کی طرح مارکس ازم کا فلسفہ پڑھا ہے لیکن میں اپنے لئے روشنی کا منبع قرآن عظیم کو سمجھتا ہوں‘۔ ان کے نزدیک’ جب تک پنجاب اپنے حقوق کی خاطر آوازنہیں اٹھاتا اور انھیں حاصل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا اسے چھوٹے صوبوں کے حقوق کا احساس نہیں ہوگا ۔ جب تک پنجابی زبان، پنجابی ثقافت اور پنجابی عوام کے حقوق کی بات نہیں ہوگی اس وقت تک دوسرے صوبوں سے ابھرنے والی اس قسم کی آواز کو پنجاب والے پاکستانی ثقافت، اردو زبان، اور پاکستان کے خلاف تصور کریں گے‘۔
عبدالحفیظ پیرز ادہ کا شمار پیپلز پارٹی کے بانیوں میں ہوتا تھا۔ وہ بھٹو کابینہ میں وزیر تعلیم اور اطلاعات و نشریات کے وزیر رہے تھے۔ عبدالحفیظ پیرزادہ سے وزارت اطلاعات لے کر بھٹو نے مولانا کوثر نیازی کو دی تھی جو نذیر لغاری کے نزدیک بھٹو کی ’ہمالیائی غلطی‘ تھی کیونکہ وزارت اطلاعات کے ذریعے مولانا نے جو ’پاکستان کا بیانیہ تشکیل دیا وہ پاکستان کے تاریخی تقاضوں کے بالکل بر عکس تھا‘۔ نذیر لغاری عبدالحفیظ پیرزادہ سے انٹرویو کے تعارف میں کہتے ہیں کہ ’میں اس تکلیف دہ حقیقت کا انکشاف اور اعتراف کرتا ہوں کہ مجھے بھٹو کے عدالتی قتل کے پس پشت بہت سے دوسرے کرداروں کی طرح عبدالحفیظ پیرزادہ کا کردار بھی نظر آتا ہے‘۔ نذیر لغاری کہتے ہیں کہ بھٹو کی سزائے موت کے خلاف کراچی کے وکیل شفیع محمدی نے عبدالحفیظ پیرزادہ کی وساطت سے شریعت کورٹ سے حکم امتناعی حاصل کرنے کی درخواست کی تھی ۔ عدالت نے یہ درخواست سماعت کے لیے منظور کرلی تھی لیکن دوسرے روز عبدالحفیظ پیرزادہ نے عدالت میں پیش ہوکر یہ درخواست واپس لینے کی استدعا کی جس پر عدالت نے شفیع محمدی پٹیشن خارج کردی تھی۔
ائیر مارشل (ر) اپنے انٹرویو میں کہتے ہیں جب جنرل ضیا ء الحق نے مارشل لا نافذ کیا تھا تو پاکستان قومی اتحاد کی پوری قیادت کو ’حفاظتی تحویل‘ لے لیا گیا تھا لیکن جماعت اسلامی کے امیر میاں طفیل محمد اور مسلم لیگ کے سربراہ پیر پگاڑا کو مارشل لا حکام نے گرفتار نہیں کیا تھا۔ اس ایک واقعہ سے ان کے فوج کے ساتھ قریبی تعلقات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ مشیر پیش امام کا شمار ائیر مارشل اصغر خان کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا ۔ وہ تحریک استقلال کے جنر ل سیکرٹری بھی رہے۔ اپنے انٹرویو میں ائیر مارشل اصغر خان کے بارے میں کہتے ہیں ’تعمیر ی سیاست کرنا ائیر مارشل (ر) اصغر خان کے مزاج میں ہی شامل نہیں ہے۔ان میں کسی کے ساتھ چلنے کی صلاحیت نہیں ہے۔وہ جب بھی کسی چیز کو بنتا دیکھتے ہیں اس سے الگ ہونے میں وہ پہل کرتے ہیں ۔ وہ ہمیشہ الگ سے اپنا کام کرنا چاہتے ہیں۔ سیاست میں ایسے لوگوں کی بہت کم گنجائش ہوتی ہے جو دوسروں سے بات بھی نہ کرنا چاہتے ہوں‘۔
مولانا فضل الرحمان کا شمار ایسی سیاست دانوں میں ہوتا ہے جو ہمیشہ ایوان اقتدار کے گرد و نواح میں موجود رہتے ہیں۔ وہ اپوزیشن میں ہوکر اقتدار کے مزے لوٹتے اور اقتدار میں رہ کر اپوزیشن کا کریڈٹ لیتے ہیں۔ اپنے انٹرویو میں کہتے ہیں کہ ’اب پوری قوم یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ قیام پاکستان کے وہ مقاصد ہی نہیں تھے جن کا قوم سے وعدہ کیا گیا تھااور کہیں قیام پاکستان کے در پردہ مقاصد یہ تو نہیں تھے جن کی اب تکمیل کی ہورہی ہے ‘۔
میر غوث بخش نزنجو پاکستان میں قوم پرست سیاست کا اہم نام تھا ۔ وہ سیاسی افہام وتفہیم سے سیاسی عمل کو آگے بڑھانے پر یقین رکھتے تھے۔ بلوچستان کے مسائل پر ان کی نظر بہت گہری تھی۔ اپنے تیس سال قبل دیئے گئے انٹرویومیں انھوں نے بلوچستان کی سیاست بارے جو بات کہی تھی وہ آج حرف بحرف درست ثابت ہورہی ہے ۔ کہتے ہیں ’بلوچستان میں پہلے مرکز گریزی کی حد تک اختلافات تھے لیکن اب بات مملکت گریزی کی طرف جارہی ہے۔بات یہ ہے کہ نواب خیر بخش مری اور عطا ء اللہ مینگل ہمارے حکمرانوں کے رویہ سے اس حد تک مایوس ہوگئے ہیں کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ نہ اس ملک میں وفاقی وحدتوں اور قومیتوں کو حقوق ملیں گے اورنہ ہی جمہوریت آے گی‘۔
معراج محمد خان پاکستان کی بائیں بازو کی سیاست کا اہم ترین حوالہ تھے۔ وہ پاکستان قومی اتحاد کی بھٹو مخالف تحریک کا تجزیہ کرتے ہوئے کہ کہتے ہیں کہ ’جماعت اسلامی نے پی۔این۔اے کی تحریک کو فوج کے کھاتے میں ڈال دیا۔ اسلام کے مقدس نام پر پورے ملک کو فرقوں میں بانٹ دیا گیا۔یہ بات پی ۔این۔اے کے مقاصد میں شامل نہیں تھی بلکہ پی۔این۔ائے کے آڑ میں کھل کھیلنے والوں کے مقاصد میں شامل تھی۔پی۔این۔ائے کی تحریک میں قربانیاں دینے والے برے نہیں تھے لیکن مفاد پرستوں نے عوام کے خون کا سودا کیا ‘۔
کے۔ایچ۔ خورشید قائد اعظم کے سیکرٹری تھے۔ کشمیری نژاد کے۔ایچ خورشید پاکستان کے زیر انتظام کشمیر 1959-1964صدر بنے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ’ 1965 میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں جو کاروائی ( ان کا اشارہ آپریشن جبرالٹر) ہوئی تھی اس کا کشمیر کی آزادی سے کم اور جنرل ایوب خان کو ناکام بنانا زیادہ تھا۔ اور پھر ایوب خان نے تسلیم کیا تھا کہ 1965 کی جنگ انھیں اقتدار سے ہٹانے کی سازش تھی۔1965 میں جب حکومت نے ’مجاہدین‘ بھیجے تھے تو میں نے اس کی مخالفت کی تھی ‘۔
تیس سال قبل لئے گئے یہ انٹر ویو زپڑھ کر افسوس ہوتا ہے کہ زمانے کی اس تیز حرکت میں سیاسی،سماجی،اقتصادی اور سائنسی ارتقا میں ہم نے کوئی ایک بھی اہم اور قابل ذکر قدم نہیں اٹھایا ۔ہماری ریاست کے طاقتور عناصر اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ ملک کو ایک طاقتور اور آمرانہ مرکزیت کے ذریعے متحد رکھا جاسکتا ہے۔ حکمران اشرافیہ کے ذہن میں یہ بے بنیاد تصور جاگزیں ہوچکا ہے کہ یہ ملک کانچ کا بنا ہوا ایسا گھر ہے جو ایک پتھر لگتے ہی دھڑام سے ٹوٹ کر زمین بوس ہوجائے گا ۔ حکمران طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ اس ملک کے عوام میں سیاسی شعور مفقود ہے اور سیاسی عمل سے وہ بے بہر ہ ہے۔ ان کے نزدیک پاکستان کے عوام ایک جمہوری اور رضاکارانہ وفاق کے اندر رہنے کے صلاحیت اور اہلیت نہیں رکھتے ہیں،اس لئے ضروری ہے کہ عوام سے ان کی زبانیں،تاریخ و ثقافت، آزادانہ طرز فکر وعمل اور ان کی جمہوری خواہشات چھین لی جائیں تاکہ وہ آمریت کے زیر سایہ مجہول زندگی گذاریں اور ریاست پر قابض اشرافیہ کو کسی طور چیلنج نہ کریں۔عوام کو بار بار باور کرایا جائے کہ وہ ہزار ہا برس سے غلام ہیں اور وہ نوآبادیاتی ریاستی اور سماجی ڈھانچے کے اندر ہی زندہ رہ سکتے ہیں ۔ گذشتہ ستر سالوں میں اس ملک کے عوا م کی سیاسی و سماجی ترقی اور اپنی تاریخ و ثقافت سے جڑنے کے عمل کی راہ میں بے پنا ہ رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں ۔ عوام کی ترقی کی و خوشحالی کی امنگوں کو کرپشن کی چکی میں پیس دیا گیا ہے اور دہشت گردی کے دیو نے ان کے حوصلوں کو پست کر دیا ہے ۔**
Shipping Notes
- Free Standard Shipping on $100+ Orders to the USA.
- Except Preorder products are shipped in 48 hours.
- Delivery to the USA:
- Standard Shipping : 3-10 business days
- If time is of the essence, please consider selecting expedited delivery for faster service.
Exchange/Return Notes
- We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
- Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
- To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
- Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy
4.7 ★★★★★
Based on 17 reviews
Sort
Product Reviews
★★★★★ 5
Fallen Angels, fae, vampires, oh my!
Format: Kindle
Rating: 4.5 | Spice: 2 (but a good slow-burn)
•
Main Characters: Huntyr and Wolf
•
I couldn’t wait to read this book; there was so much hype about it! And there was no doubt why. I fell in love with the characters and the plot itself. This book is mainly plot driven more than friction driven but it’s easy to follow along with. The characters are fun, easily understood. The main setting is at an academy where both the main characters are going through trials and building strength for the final test, The Transcendent. There are fantastic side characters as well. I loved the camaraderie between Huntyr and her friends. But we don’t like Lanson. 😆
We do have some plot twists that come into play throughout the book. Secrets and betrayal to be seen. I did adore Wolf and Huntyr’s relationship. It was a classic slow burn trope. They didn’t hit it off fast, but in time their feelings grew. I loved their banter, so sexy. Wolf is your next book boyfriend; Huntyr is your next vampire assassin independent bad-a*s female. Themes include loyalty, trust, self-discovery, a true slow burn romance. Side note: book ends on a angsty cliffhanger!
•
Emily, thank you for writing this awesome novel and I cannot wait to devour Book 2, Blood So Brutal! 😍
•
Happy reading, my lovelies! xo
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on January 21, 2024
★★★★★ 4
“My heart bows to you and you only, Huntress.”
Format: Kindle
3.5 🌟
This book popped up in my KU recommended reading suggestions and the synopsis sounded like what I was in the mood for. I'm so glad I took a chance on it. I went into this knowing absolutely nothing about it and ended up really liking it. I love when this happens.
The main characters are likeable and I easily found myself rooting for them. There is a mystery element to each of their backstories that I enjoyed watching unfold and can't wait to get more of. Wolf, in particular, has me fixated. Love him.
I found this to be an entertaining, addictive read with a plot that moves along at a good pace. It reads so easily I found myself very reluctant to put it down. Lots of twists and turns and the angst is there. A good set up for the next book to come, for sure.
My issues with this book....the dialogue feels a bit juvenile at times and there is a repetitive over use of a particular word phrasing that I found myself giving the ole eye-roll to. There are, without a doubt, some pretty cliche moments that gave me a bit of the cringe. I think this could've certainly 100% benefited from more depth regarding the world building. Perhaps the world building was sacrificed to keep the pacing quick? Just a guess. Also, the lack of consistency of character for the FMC was really evident and so she feels quite illogical at times.
Overall, this was a fun and enjoyable read that hit the spot well enough for me. That ending certainly has me impatiently pining for book 2!
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on June 18, 2024
★★★★★ 3
Interesting take on the genre
Format: Kindle
True rating: 3.25 ⭐️
I enjoyed the fresh take on the genre. The best way I could describe the setting and world is an apocalyptic dystopian version of Farie where vampires, fae, and angles struggle to survive in what is left of the world. It was definitely interesting throwing the academy/hunger games aspect into this world as well.
Even though I guessed the final reveal early on in the book, I kept hoping I was wrong, and it would take a surprising turn. While the "plot twists" were a bit predictable to me, I still enjoyed the ride this book took me on.
Another downfall for me was the plot holes in the world building... I.E. if society has fallen and the world is in the aftermath of war, how are there trains running around the world? Just to take young adults to the trials to get into the golden city? How is the train maintained, the tracks clear, etc?
However, I did enjoy the FMC & MMC and thought they were fleshed out nicely. I also enjoyed the side characters but wish some were developed more like Ashalin (sp?). I do find myself rooting for the MCs to succeed and find happiness together, which is obviously an important aspect for romantasy.
Overall, was this an earth-shattering, mind-bending, terrific piece of literature? No. But was it the worst thing I've read this year? Also, no. This book has, to me, the bones of a great read & just needs a bit more to push it from an alright book to a great book.
Overall ratings:
Plot- 3.5⭐️
World building 3⭐️
Spice 2.5 🌶🌶
Main characters 4 ⭐️
Supporting characters 3.5⭐️
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on May 12, 2024
★★★★★ 5
great book
Format: Kindle
I am really excited to meet the author at the book retreat this month. I really enjoyed this world that she built and most of the female main character Huntress is so awesome. She goes through a lot in this book and the ending; wow! I wouldn't have even guessed. I highly recommend everyone to read this book.
I have been so lucky this year that almost all the books I have read have been, so far, 5 out 5 stars.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on June 2, 2026
★★★★★ 4
Fallen for the Fallen Angel – A Guilty Pleasure Worth Every Page
Format: Kindle
There’s something deeply irresistible about a dark academia or trial-based setting, a brooding and arrogant fallen angel, and a fierce heroine with enough sass to go toe-to-toe with him. Wings So Wicked is exactly that kind of book—and I devoured it in just a couple of days.
To be fair, the plot isn’t groundbreaking. If you’re looking for something fresh and innovative in terms of storyline, this might not be it. But if your reader heart beats faster at the mere mention of enemies-to-lovers, jealousy-fueled banter, magical trials, betrayals, and forbidden tension—you’ll feel right at home. It’s like catnip for those of us with this particular weakness.
The chemistry between the leads could have used a slightly slower burn to make the tension sizzle longer, but I still found myself completely invested in their dynamic. There are moments and phrases that feel a bit cheesy or underdeveloped, but honestly? I didn’t care. The vibes were exactly what I wanted.
This book isn’t trying to reinvent the genre—it’s here to give readers like me what we crave: high-stakes magical drama, angsty romance, and the thrill of watching a badass girl and her brooding counterpart clash and spark. If that sounds like your kind of story, Wings So Wicked will hit the mark.
Here’s hoping Book 2 turns up the heat and keeps the magic alive.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on May 20, 2025